دبئی 18/ اگست (ایس او نیوز؍جیلانی محتشم ) دبئی میں بی ایم جے ڈی کی طرف سے انجمن حامئی مسلمین کے جنرل سکریٹری کے اچانک انتقال پر تعزیتی اجلاس کل رات بی ایم جے ڈی آفس میں منعقد ہوا۔ تعزیتی اجلاس کا آغاز مولوی عبدالحئی ائیکری کی تلاوت سے ہوا۔ اس کے بعد دیگر ممبران نے تاثرات پیش کئے۔ جس میں سابق صدر جناب عبدالقادر باشاہ رکن الدین نے اپنے کلمات میں کہا کہ مرحوم ایک مخلص خادم اور خاموش خادم بن کر رہیں ان کو مولانا ابوالحسن ندوی سے گہرا تعلق تھا اورانہوں نے لکھنؤ رہائش کے دوران اُن سےکافی استفادہ حاصل کیا ہےاور قومی خدمت کی ہے۔ آگے بتایا کہ مرحوم کاانجمن کو آگے بڑھانے میں اہم رول رہا ہے۔ مرحوم جناب انصار قاسمجی کے قریبی رشتہ دار اور انجمن میں MBA کرنے والے جناب محمد اطہر جوکاکو نے کہا کہ مرحوم صرف انجمن اور تعلیم کی ہی باتیں کرتے تھے اگر کوئی انجمن کے بارے میں کچھ کہتا تو آپے سے باہر ہوجاتے تھے۔ دبئی میں ملازمت تلاش کرنے کے لئے آئے ہوئے جناب سہیب دامودی نے بتایا کہ جناب انصار صاحب کی کوششوں سے میں اور دوسرے ساتھیوں نے انجنیرنگ میں داخلہ لیا تھا اور آج میکانیکل انجنیر بن گیا۔ ایک وقت ہمارے ساتھ ایسا آیا تھا کہ مجھے ایک مارکس کم ہونے کی بنیاد پر انجنیرنگ میں ایڈمیشن نہیں مل سکتا تھا لیکن جناب انصار صاحب کی کوششوں سے مسلم اسٹوڈنٹس کو 2B سرٹی فیکٹ کے زمرے میں آنے سے میرا اور دوسرے ساتھیوں کا ایڈمیشن ہوسکا۔ سہیب کے مطابق اس سے پہلے ایک مارکس کم ہونے کی بنیاد پرانجینرنگ کالج میں کئی نوجوانوں کو داخلہ نہیں دیا گیاہے۔
ابناء انجمن کی نمائندگی کرتے ہوئے سکریٹری جناب منتظر رکن الدین نے مرحوم کی وقت کی پابندی کا تذکرہ کیا اور ہمیں ان کی طرح پابندی کے ساتھ قومی خدمت کرنے پر زور دیا۔ ابنائے جامعہ کی طرف سے مولوی سید ہاشم ندوی نے تعزیتی کلمات پیش کئے اور کہا کہ مرحوم صوم وصلوۃ کے پابند تھے۔نماز کے لئے مسجد میں جلدی پہنچتے تھے۔ مولوی عبدالمتین منیری صاحب نے کہا کہ جناب انصار صاحب بہت محنتی تھے اور پہلے سے اپنے بچوں کو دینی سے تعلیم سے اراستہ کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے اور ریٹائرمنٹ کے 26 سال کے بعد بھی آخر دم تک قومی خدمت کرتے رہے۔ بی ایم جے ڈی کے سکریٹری جناب جیلانی محتشم نے تعزیتی قرارداد پیش کی۔ صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے جناب محمد اشفاق سعدا صاحب نے کہا کہ ہمارے اسلاف نے تعلیی ادارے قائم کئے کسی نے وقت کی قربانی کی‘ کسی نے مال کی اور کسی نے بیماری کے باوجود ادارے مضبوط کئے۔ انجمن کے قریب 20 اسکولس و کالجس اور تقریبا ۸ ہزار طلباء ہیں۔ اشفاق سعدا صاحب نے ہی آخر میں تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ مولوی سید ہاشم ندوی نے جلسہ کی نظامت کی اور نائب صدر مولوی ارشاد علی آفریقہ کی دعا پر اجلاس رات ساڑھے گیارہ بجے اختتام پذیر ہوا۔
تعزیتی قرارداد بر وفات۔ جناب محمد انصار قاسمجی صاحب
آج مورخہ: 17 /اگسٹ 2016 بھٹکل مسلم جماعت دبی کا منعقد ہونے والا یہ تعزیتی اجلاس جناب محمد انصار قاسمجی صاحب کی اس دنیا سے دائمی جدائی پر اپنے شدید صدمہ اور رنج و الم کا اظہار کرتا ہے۔ مرحوم ایک ایسے وقت میں اس جہان فانی سے رخصت ہوئے ہیں ، جب کہ آپ کی خدمات تجربے اور صلاحیتوں کی قوم کو پہلے سے زیادہ ضرورت تھی۔ مرحوم ایک محنتی اور مخلص اور امانت دار انسان تھے، وہ اپنے اصولوں کے پابند انسان تھے۔
آپ نے سنہ 1938ء میں اس دنیا میں جنم لیا، ابتدائی تعلیم ٹامل ناڈو کے شہر سیلم میں ہوئی، جس کے بعد آپ نے سیکنڈری تعلیم انجمن ہائی اسکول میں پائی۔ پی یوسی کمٹا سے اور بیلگام سے بی یس سی بیلگام سے مکمل کیا۔
فراغت کے بعد یف ڈی سی ( FDC) نامی دو ا ساز کمپنی میں ملازمت اختیار کی، جہاں آپ نے محنت اور امانت سے (36) سال کا طویل عرصہ گذارا ، اس دوران آپ نے میڈیکل نمائندے کی حیثیت سے ممبئی، مدراس، بنگلور اور لکھنو میں میں قیام، اور جنرل مینیجر کے عہدے پر پہنچ کر 1993ء میں آپ نے ملازمت سے ریٹائرمنٹ لی، آخری عمر کے (26) سال آپ نے قوم ملت کی خدمت کے لئے وقف کئے۔
دوران ملازمت آپ نے مدراس وغیرہ میں سماجی و ملی خدمات سے وابستہ رہے ، آخری سالوں میں قومی اور مرکزی اداروں جماعت المسلمین وغیرہ میں اہم عہدوں پر فائز رہے، یہاں آپ کا زیادہ تر وقت انجمن حامی مسلمین میں گزرا، اس ادارے میں آپ کالج بورڈ کنوینر، نائب صدر اور آخر ی چند سال جنرل سکریٹری کے اہم عہدے پر فائز رہے۔ رٹائرمنٹ کی عمراور بیماریوں کے باوجود آپ نے اپنی ذمہ داریاں بحسن و خوبی ادا کیں، اور انہیں نبھانے کے لئے ایک ملازم کی طرح بھر پور وقت دیا۔
اللہ تعالی آپ کی ان خدمات کو قبول کرے، آپ کے درجات کو بلند کرے، آپ کے فراق پر جماعت ہذا، انجمن حامی مسلمین، جماعت المسلمین، جملہ اداروں اور آپ کے فرزندان اور جملہ متعلقین کے غم میں برابر کے شریک ہے۔ اللھم اغفرلہ وارحمہ۔
محمد اشفاق سعدا عبد القادر جیلانی محتشم
صدر جماعت سکریٹری